31 اکتوبر 2012 - 20:30

علامہ سید ساجد علی نقوی نے میانمار (برما) میں بدھ مت دہشتگردوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کو بدترین درندگی اور سفاکیت کا مظہر قرار دیتے ہوئے انسانیت سوز مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوۓسینکڑوں افراد کے جان سے ہاتھ دھونے اور بائیس ہزار سے زائد مسلمانوں کے بے گھر ہونے پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ابنا: ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق مغربی برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق  ٹھوس ثبوت ملنے کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی کہا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم سے مسلم امہ کو بہت سی توقعات وابستہ تھیں کہ او آئی سی میانمار مسلمانوں کے لئے ٹھوس اور جامع پالیسی مرتب کرکے دہشت گردوں کے ہاتھوں انکی نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کو فی الفور رکوائے گی تاہم ابھی تک او آئی سی مسلم امہ کی توقعات پر پوری اترتی دکھائی نہیں دی۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ گذشتہ عرصہ سےروہنگیا مسلمانوں کو برمی افواج اور سیکورٹی فورسز کی جانب سے نسل کشی، قتل و جارحیت، ظلم و زیادتیوں اور جبری ترک وطن جیسے مسائل اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا سامنا رہا ہے ان حالات میں عالمی امن کے دعویداروں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی خاموشی معنی خیز اور افسوسناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے جبکہ اس حوالے سے مسلمان ممالک بھی کوئی قابل ذکر اور اہم کردار ادا نہیں کر رہے۔

.....

/169